History in Urdu

 

 

Bibi Pak Daman History in Urdu

 

 

Who was Bibi Pak Daman and what history tell us about? get here complete information about Bibi Pak Daman. It is located in Lahore and is very famous historical place. People from all faiths and from all around Pakistan came to visit this places. Get more information below with full details.

بی بی پاک دامن کون تھیں؟ 
بی بی پاک دامن کا مزار لاہور میں واقع ہے۔ ان کا اصل نام حضرت رقیہ بنت علیؓ ہے۔ رقیہ بنت علی ابنِ ابو طالب حضرت محمدﷺ کے چچا ذاد حضرت علیؓ کی بیٹی تھیں۔ حضرت رقیہ یعنی بی بی پاک دامن حضرت عباس کی بہن تھیں اور مسلم بن عقیل کی بیوی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ بی بی پاک دامن کے مزار میں موجود دوسری قبریں مسلم بن عقیل کی بہنوں اور بیٹیوں کی ہیں۔ 
یہ روایت ہے کہ یہ خواتین یہاں یعنی لاہور کے علاقے میں کربلا کے واقع کے بعد آئی تھیں۔ دراصل بی بی پاک دامن مزار میں موجود ساری خواتین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن زیادہ تر حضرت رقیہ کے لیے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے برِصغیر میں اسلام کو پھیلانے میں اپنا بہت بڑا کردار بھی ادا کیا۔ یہ بات بھی بہت مشہور ہے کہ مشہور صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش ؒ بھیبی بی پاک دامن کے بہت بڑے عقیدت مند تھے۔ کچھ سکالرز یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ خواتین دراصل سید احمد توختہ (12ویں صدی) کی بیٹیاں ہیں۔ 
بی بی پاک دامن کا مزار گڑھی شاھو اور ریلوے سٹیشن کے درمیان میں واقع ہے۔ مزار تک پہنچنے کے لیے سب سے آسان راستہ ایمپریس روڈ کے ذریعے جاتا ہے۔ پھر پولیس لائن سے چھوٹا لنک روڈ بھی جاتا ہے۔ زائرین کے رش کے دیکھتے ہوئے گورنمنٹ مزار کے احا طہ کے وسیع کرنے کا پروگرام بھی بنا رہی ہے تاکہ عقیدت مند آسانی کے ساتھ یہاں پر آ سکیں۔

تاریخی طور پر نام
7عورتوں کے نام اور 4مردوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔کتاب (تاریخِ شیعانِ علی) میں اس بات کی تفصیل ملتی ہے۔ ان کتابوں کے مطابق تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بی بی پاک دامن یعنی حضرت رقیہ اپنے آپ کے تعارف کرواتے ہوئے فرماتی ہیں کہ " میں شہید مسلم بن عقیل کی بیوہ ہوں، علیؓ کی بیٹی ہوں اور حضرت امام حسینؑ کی فوج کے سپہ سالار حضرت عباس کی بہن ہوں اور پانچ خواتین میری نندیں ہیں اور چھٹی خاتون ہماری خدمتگار ہیں لیکن ہم اسکو برابر ہی سمجھتے ہیں"۔ مزید تفصیل میں بتاتی ہیں کہ مرد ہمارے محافظین ہیں اور ہمارے قبیلے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے نام ابو الفح، ابو الفضل اور عبداللہ ہیں۔ 
پہلے مجاور (ایسا شخص جو مزار اور عقیدت مندوں کی دیکھ بھال اور خدمت پر مامور ہوتا ہے) کا نام بابا خاکی تھا۔ ڈاکٹر مسعود رضا خاکی (جو کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب میں ڈپٹی ڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز رہے ہیں)کے مطابق حضرت رقیہ کے علاوہ دوسری عورتوں کے نام زینب، رملہ، عاصمہ، ام لقمان اور ام حانی ہیں۔ 
تاریخ کے مطابق پہلی مکمل طور پر خانقاہ ملک ایاز (سلطان محمود غزنوی کی فوج کے سپہ سالار)کے زمانہ میں یعنی 11صدعی عیسوری میں تعمیر کی گئی تھی۔ اور پھر اکبر بادشاہ کے زمانہ میں دوبارہ تعمیر کی گئی۔

عرس بی بی پاک دامن
بی بی پاک دامن کے مزار پر شیعہ اور سنی عقیدہ کے لوگ آتے ہیں۔ اسلامی مہینہ جمادی الثانی 7سے 9تاریخ تک تین دن کے عرس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اس دوران زیادہ تر سُنی عقیدہ لے لوگ اور شیعہ عقیدہ کے لوگ زیادہ تر محرم اور صفر کے مہینوں میں آتے ہیں۔ لیکن عرس کے دوران بھی بہت سے شیعہ عقیدت مند بھی آتے ہیں۔ مزار کا احاطہ اور بازار وغیرہ بھی پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں سے بھرے رہتے ہیں۔ عرس کے ایک شام کو لوگوں کو بہت زیادہ رش ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ پنجاب اور سندھ سے آتے ہیں اور یہاں پر آ کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وہ گلی جو مزار کو مین روڈ سے جوڑتی ہے ۔ اسمیں دونوں طرح محرم کے متعلقہ چیزیں رکھی گئی ہیں۔ خاکِ شفا یونی خاکِ کربلا، نوحوں کی CDs، کربلا کی تاریخی کتابیں وغیرہ اور بہت سی دوسری چیزیں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ کچھ خواتین عرس کے دنوں میں مزار یعنی قبر کو غسل بھی دیتی ہیں۔ گورنمنٹ آف پنجاب اور TDCPنے اس مزار کو ٹورسٹ کے لیے ایک مشہور مزار کے طور پر بھی لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔

ایڈریسAddress
Durandروڈ، نزد کوئین میری کالج، لاہور

نوٹ: یہ ساری معلومات wikipedia.orgاور دوسری ویب سائیٹوں اور کتابوں سے اکٹھی کی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

All Rights Reserved @bestpakistaniwebs.com