History in Urdu

 

 

Changez Khan History in Urdu چنگیز خان 

 

تموجن

اصل نام

منگول

نسل

1162

تاریخ پیدائش

دریائے اونان کے کنارے ۔منگولیا

جائے پیدائش

65سال

عمر

18اگست 1227

فوت ہونے کی تاریخ

تقریباً 40ملین لوگ

کتنے لوگوں کو مارا

چین، روس،افغانستان ، ایران, مڈل ایسٹ، اور یورپ کے کچھ علاقے وغیرہ

کن ملکوں پر حملے کیے

مختلف روایات (گھوڑے سے گر کر، بیمار ہو کر، چین پر حملہ کے دوران)

کس طرح فوت ہوا

نامعلوم مقام(منگولیا میں دریائے اونان کے کنارے پر)

قبر کہاں پر واقع ہے

 

 

Changez Complete history in Urdu. Changez Khan was a Mongol chief called Khan. He is famous for his wars and spread his area to Europe and middle east very quickly . Lets know about his life including his wives, children, brothers and other details..

چنگیز خان جب پیدا ہوا تو اس کا نام تموجن رکھا گیا۔ وہ منگول سلطنت کا پہلا Great Khanخان تھا۔ اس کی بنائی ہوئی منگول سلطنت اس کے مرنے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بنی جو دنیا کے کئی ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی زندگی کا زیادہ تر حصہ سفر کرنے اور جنگ کرنے میں ہی گزرا۔ منگولیا کے علاقے میں پہلے بہت سے خانہ بدوش قبیلے ہوتے تھے۔ چنگیز خان نے ان سب کو اکٹھا کیا۔ جب اس نے حملے شروع کیے تو بہت جلدی سے اسے نے یورپ اور ایشیا کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے دوران اس کی فوج نے شہری آبادی کے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا۔ خاص طور پر خوارزمیوں اور چین کے لوگوں کا۔ اس کے زندگی کے آخری ایام تک وہ سنٹرل ایشیا او چین کے بہت سے حصوں پر قبضہ کر چکا تھا۔ 
حالانکہ نسل کشی کی وجہ سے بہت مشہور تھالیکن اس کے بہت سے منگول قبیلوں کو اکٹھا کیا اور اپنی سلطنت کو بہت زیادہ وسیع کیا۔ اس کی ہی وجہ سے چین اور منگول علاقے تجارتی طور ہر روس، افغانستان، ایران اور دوسرے مسلم ممالک سے جڑ گئے۔

چنگیز خان کا نسب


تموجن یعنی چنگیز خان کے آباو اجداد میں بہاردی ، سرداری اور حسب نسب کے بہت بڑے بڑے نام ہوئے جیسا کا کابل خان، امباغائی، ہوتولا خان اور بہت سے دوسرے۔ چنگیز خان کے والد یسوگئی اپنے ایک قبیلہ کا سردار تھا اور ہوتولا خان کا بھانجا تھا۔ اس کا باپ اپنی قابلیت کی وجہ سے منگول سردار بنا۔ اسی وجہ سے اسی کی دوسرے قبیلوں سے دشمنی بھی بڑھی۔ لیکن 1161میں تاتاریوں کی طاقت زیادہ بڑھ چکی تھی

چنگیز خان کی پیدائش


چنگیز خان کی پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات بھی ہی کم ملتی ہے۔ اور مختلف کتابوں میں ملتی بھی تو ان سب میں بہت تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ (تموجن)منگول زبان کے لفظ تیمور (لوہا)کے ہیں۔ تو تموجن کا مطلب تھا لوہار۔ تموجن منگولیا میں ایک دریا اونان کے پہاڑی علاقے برخان خلدون کے علاقے میں 1162میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ منگولیا کو دارلخلافہ اولنبتار سے قریب پڑتا ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب چنگیز خان پیدا ہوا تو اس کے ہاتھ میں خون کا ایک لوتھڑا بھی تھا۔ ایک منگول روایت کے مطابق اس کا مطلب یہ تھا یہ تموجن ایک دن بڑا ہو کر عظیم لیڈر بنے گا۔ یا کچھ لوگوں کے مطابق اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنی زندگی میں یہ بہت سا خون بہائے گا۔ تموجن اپنے دوسرا بیٹا تھا۔ 
تموجن نام اس سردا ر کے نام پر رکھا گیا تھا جو اس کے باپ نے تاتاری قوم سے ایک سردار کو پکڑا تھا۔ یہ سارے قبائل خانہ بدوش تھے یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ پر آتے جاتے رہتے تھے۔

چنگیز خان کی ابتدائی زندگی اور خاندان۔ بھائی کا قتل


چنگیز خان کے تین بھائی تھے (حصار، ہاچین اور تموگ) اور بہن تمولِن بھی تھی۔ ان کے علاوہ 2سوتیلے بھائی (بیگتر اور بِلگوتائی)بھی تھے۔ دوسرے سب خانہ بدوش قبائل کی طرح ہی سے تموجن کی بچپن کی زندگی بھی بہت مشکل تھی۔ تموجن کے باپ نے 9سال کی عمر میں ہی اس کی شادی ایک اور قبیلہ کی لڑکی سے کر دی اور تموجن کو اس خاندان کو سونپ دیا۔ جب تک تموجن 12سال کا نہ ہوا اس کو اپنی ہونے والی بیوی کے گھر میں ہی رہنا پڑا۔ ایک دن تموجن کا باپ کہیں سے گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ رستے میں اسے تاتاری قبیلہ کے لوگ ملے۔ جو کہ منگول کے بہت پرانے دشمن تھے۔ تاتاریوں نے تموجن کے باپ کو کھانا کھلایا مگر اس کھانے میں زہر ملا ہوا تھا۔ اور وہ مر گیا۔ جب تموجن کو اپنے باپ کی موت کا پتہ چلا تو وہ اپنی بیوی کے گھر سے اپنے گھر فوراً واپس آیا اور باپ کی جگہ پر سردار بننے کی خواہش کی۔ مگر اسکے کے قبیلے نہ اس سے انکار کیا اور پورے خاندان کو قبیلے سے باہر بھی نکال دیا۔ اسی وجہ سے تموجن کا خاندان اگلے کئی سالوں توک بہت بھوک، بُرے حالات میں بھٹکتا رہا۔ اس دوران یہ لوگ زیادہ تر جنگلی پھل کر، جانوروں کی گلی سڑی لاشیں کھا کر ، بڑی گلہری کھا کر اور دوسرے چھوٹے جانور کھا کر زندہ رہے۔ 
تموجن کا سوتیلا بھائی جو تموجن سے بڑا تھا ۔ اس نے خاندان کو کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی اور تموجن کی ماں یعنی(Hoelun)کو اپنی بیوی بھی بنانے کی کوشش کی۔ تموجن کی نفرت اپنی سوتیلے بھائی کے لیے بہت زیادہ بڑھ چکی تھی ۔ اسی لیے ایک شکار کے دوران تموجن اور اسکے بھائی نے اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کر دیا۔ 
1117میں تموجن کو ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں نے حملہ کر کے قیدی بنا لیا اور بہت بے عزتی کے ساتھ لے گئے۔ تموجن نے ایک گارڈ کی ہمدری حاصل کر لی اور رات کے اندھیرے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تموجن کے اس طرح بھاگ جانے سے وہ اپنے علاقے میں مشہور ہو گیا۔ کچھ دوسرے منگول بھی اس کے ساتھ مل گئے اور گارڈ جس نے تموجن کو بھاگنے میں مدد کی ۔ اس کا بیٹا بھی تموجن سے آن ملا۔ 
اسوقت تک تمام منگول قبائل الگ الگ تھے ان کا اپنے اپنے قانون تھے اور آپس میں روابط بھی بہت کم تھے۔ تموجن جب جوان ہو رہا تھا تو اس زمانہ میں منگول قبائل کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اسوقت قبائل کی آپس کی لڑائی، چوری، حملے، کرپشن اور بدلے بہت عام تھی۔ تموجن کی ماں نے اس کی بہت تربیت کی۔

چنگیز خان کی بیویاں اور بچے


چنگیز خان کے باپ نے بہت اسکی پہلی شادہ دوسرے قبیلے سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے اس کی شادی کروائی۔ اس کی پہلی شادی کے فوراً بعد ہی اسی کی بیوی کو ایک قبیلہ نے اغوا کر لیا۔ تموجن نے اپنی بیوی کو اپنی دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مل کر بچا لیا اور واپس لے آیا۔ اس بیوی میں سے اس کا پہلا بچہ 1185میں پیدا ہوا۔ حالانکہ اسوقت کے رواج کے مطابق تموجن نے بہت سے دوسری شادیاں بھی کیں مگر اس کی اصل رانی یا ملکہ اسکی پہلی بیوی ہی رہی۔ 
پہلی بیوی میں سے اسکے 4بچے تھے (چغتائی، اگڈائی، تولوئی) ۔ تموجن میں بعد میں تقریباً 500بیویاں رکھیں جس میں اسکی باندیاں وغیرہ بھی شامل تھیں۔ لیکن اس کی پہلی بیوی Borte سب سے اہم رہی۔ اسکے دوسری بیویوں میں سے بھی بچے تھے۔ لیکن اس کا اصل وارث پہلے بیوی کا بیٹا ہی سمجھا جاتا تھا۔ تموجن کی بیٹیاں بھی تھیں جنہوں نے اس کی زندگی میں اور بعد میں بھی بہت اہم کردار ادا کیے۔

منگول قبائل کو اکٹھا کرنا


شمالی چین میں بہت سے قبائل کی حکومت تھی۔ جن میں منگول، تاتاری، مرکٹس اور دوسرے بھی تھے۔ عام طور پر یہ سارے قبیلے آپس میں دشمن رہتے تھے اور بدلے لیتے رہتے تھے۔ لیکن تموجن نے ان سب کو اکٹھا کر لیا۔

جنگوں کا آغاز


جب اس نے تمام منگول قبائل کو اکٹھا کر لیا تو سب سے تموجن کو اپنا خان یعنی سردار قبول کر لیا۔ اس نے باقاعدہ طو ر پر منگول سلطنت کی بنیاد رکھی۔ سب قبائل کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور باقاعدہ فوج اور کمانڈر بھی بنائے۔ اور اب تموجن باقاعدہ طور پر چنگیز خان کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس نے چین پر 2حملے کیے اور اس کے تخت و تاج کو ہلا کر رکھ دیا۔ شروعاتی چھوٹے چھوٹے حملوں میں کامیابی سے چنگیز خان کا حوصلہ بڑھتا گیا اور پھر وہ اپنی زندگی کے آخیر تک جنگ کی حالت میں ہی رہا۔ وہ بہت تیزی سے حملہ کرتا اور علاقے کو قبضہ میں لیا، لوگوں کو قتل کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ روس کی طرف بھی پیش قدمی کی اور روس کے علاقوں میں بہت زیادہ خون بہایا۔ ان کامیابیوں کے بعد وہ پوری دنیا کو ہی فتح کرنے کے لیے نکل پڑا۔ 
اپنا سکہ قائم کرنے کے لیے اس نے جتنا بھی ہو سکا خون بہایا۔ سب سے زیادہ نقصان افغانستان اور ایران کے خوارزمیوں کو اٹھا نا پڑا۔ 
چنگیز خان بہت چالاک، نڈر اور بہادر بھی تھا۔ اگر اس کے پاس کم فوج بھی تھی تو اپنی بہترین جنگی حکمتِ عملی کے وجہ سے سے کے حملے ہمیشہ کامیاب رہتے اور دوسری فوج کو بہت جلدی شکست ہو جاتی۔

چنگیز خان کی موت


چنگیز خان کی موت کی وجہ آج تک واضح نہیں ہو سکی اور ابھی تک راز ہی بنی ہوئی ہے۔ کہیں پر تو یہ لکھا ہے کہ وہ گھوڑے سے گر کر مرا ، کوئی کہتا ہے کہ وہ بیماری سے مرا، کوئی کہتا ہے کہ چین میں لڑائی کے دوران مرا یا شکار میں زخم ہونے سے مرا۔ ایک کتا ب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ شکار کے دوران گھوڑے سے گر گیا اور زخموں سے مر گیا۔ 
چنگیز خان نے اپنی موت سے بہت پہلے ہی یہ وصیت کر دی تھی کہ اس کو مرنے کے بعد کوئی نشان باقی نہ رکھا جائے۔ مرنے کے بعد اسکی باڈی کو اس کے آبائی علاقے میں لے جایا گیا اور درائے اونان کے علاقے میں دفنا دیا گیا۔ 
ایک روایت کے مطابق جب اس کی فوج اسے دفنانے کے لیے لے کر جا رہی تھی تو رستے میں آنے والے سارے لوگوں کو ختم کر دیاتاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ اسے کہاں دفن کیا گیا۔

 

 

 

 

 

All Rights Reserved @bestpakistaniwebs.com